عائزہ خان نے پٹاخہ پکچرز کی 5 سالہ کامیابی پر مبارکباد دی، لیکن ان کے لباس پر کیوں ہوئی سب سے زیادہ بات؟

پاکستانی اداکارہ اور ٹیلی ویژن کی معروف چہرہ، عائزہ خان نے حال ہی میں آسکر یافتہ فلمساز شارمین عبید چنائے کے پٹاخہ پکچرز کو ان کی پانچ سالہ کامیاب سفر مکمل ہونے پر دل کھول کر مبارکباد دی ہے۔ عائزہ نے اپنے انسٹاگرام پر ایک پرجوش پیغام شیئر کیا جہاں انہوں نے شارمین عبید چنائے کی لگن کی خوب تعریف کی، خاص طور پر اس بات پر کہ وہ کس طرح خواتین فلم سازوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں اور انہیں ایسے پلیٹ فارمز فراہم کر رہی ہیں جہاں وہ ایسی کہانیاں سنا سکیں جو اکثر ہمارے سماج میں ان سنی رہ جاتی ہیں۔
عائزہ خان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نوجوان اور نئے فلم سازوں کو موقع دینا کتنا اہم ہے کہ وہ اپنی منفرد کہانیاں دنیا کے سامنے پیش کریں اور پاکستان کا وہ مثبت اور متنوع رخ دکھائیں جو عام طور پر بین الاقوامی سطح پر اتنی توجہ حاصل نہیں کر پاتا۔ انہوں نے اس انقلابی اقدام کی مسلسل کامیابی کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ پٹاخہ پکچرز مستقبل میں بھی ہر قسم کی رکاوٹیں توڑ کر آگے بڑھتا رہے گا۔
یہاں تک تو بات بالکل سیدھی تھی، لیکن اب آتے ہیں اصل 'ڈرامہ' کی طرف۔ پٹاخہ پکچرز، جو کہ ایس او سی فلمز کی ایک شاندار پہل ہے، نئے اور ابھرتے ہوئے فلم سازوں کو مینٹور شپ اور مالی مدد فراہم کرتا ہے۔ ان کے ڈیزائن کردہ پروگرام خاص طور پر خواتین کو دستاویزی فلموں کے پراجیکٹس بنانے میں مدد دیتے ہیں جو سماجی مسائل کی گہرائی میں اترتے ہیں، ذاتی تجربات کو اجاگر کرتے ہیں، اور ان کمیونٹیز کی کہانیاں پیش کرتے ہیں جنہیں واقعی وسیع تر شناخت کی ضرورت ہے۔ پانچویں سالگرہ کے اس جشن میں، اس اقدام کے تحت تیار کیے گئے چند بہترین پراجیکٹس کو بھی پیش کیا گیا، جن میں ایک متاثر کن دستاویزی فلم "دی ہارسز نو ہر نیم" بھی شامل تھی۔ یہ فلم ایک ایسی بہادر عورت کی کہانی بیان کرتی ہے جو گھوڑوں کے ساتھ اپنے مضبوط رشتے سے طاقت حاصل کرتی ہے اور پھر "ٹنٹ پیگنگ" جیسے خالصتاً مردانہ غلبے والے کھیل میں اپنی جگہ بناتی ہے۔ سچ کہیں تو، یہ کہانیاں ہماری اسکرینوں پر دیکھنا واقعی تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔
اس ساری تقریب کا مقصد خواتین کی کہانیوں اور ان کی آواز کو بلند کرنا تھا، لیکن پھر وہی ہوا جو اکثر ہمارے ہاں ہوتا ہے۔ عائزہ خان کا سفید لباس سوشل میڈیا پر سب سے بڑا 'ٹاک آف دی ٹاؤن' بن گیا۔ کچھ صارفین نے ان کے اس لباس پر خوب تنقید کی اور فورا ان کے پرانے بیانات اور لباس سے متعلق تبصروں سے موازنہ کرنا شروع کر دیا۔ حد تو یہ کہ، کچھ لوگوں نے تو ان کے فیشن کے انتخاب کی بنیاد پر ان کے شوہر، اداکار دانش تیمور، کے ساتھ ان کی شادی کے بارے میں بھی عجیب و غریب قیاس آرائیاں کرنا شروع کر دیں۔ یار، پاکستانی عوام بھی غضب کی ہے، ایک اداکارہ ایک ایونٹ میں جائے اور لوگ فلموں کی بجائے اس کے لباس پر ہی پی ایچ ڈی کرنے لگیں!
بہر حال، پٹاخہ پکچرز کی پانچویں سالگرہ ایک اور اہم سنگ میل تھا، اور یہ اقدام پاکستان کے بارے میں فلم کے ذریعے کہانیاں سنانے کے لیے خواتین کو مزید مواقع فراہم کرنے کے اپنے مقصد پر قائم ہے۔ لیکن ہمیں یہ دیکھ کر ہنسی آتی ہے کہ ہمارے سوشل میڈیا صارفین کے لیے فلمیں، کہانیاں اور ٹیلنٹ ایک طرف، اور سیلیبرٹی کے کپڑے ایک طرف! کیا آپ کو بھی لگتا ہے کہ کچھ چیزیں کبھی نہیں بدلیں گی؟
