پٹاخہ پِکچرز کے پانچ سال، فلمی دنیا میں خواتین کی دھماکے دار انٹری!

معروف آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ساز شرمین عبید چنائے کے پٹاخہ پِکچرز نے حال ہی میں کراچی میں اپنی پانچویں سالگرہ منائی، جس میں فلم سازوں اور اہم شخصیات نے شرکت کی۔ اس تقریب میں 'کلیم دی فریم' پروگرام کے لیے منتخب ہونے والی آٹھ باصلاحیت خواتین فلم سازوں کا تعارف بھی کرایا گیا۔
اس پروگرام کے بانی SOC Films کے تحت شرمین عبید چنائے ہیں، کراچی میں منعقدہ اس جشن میں فلم سازوں، صنعت کے نمائندوں اور سفارتی برادری کے افراد کے ساتھ ساتھ پاکستان کی نامور شوبز شخصیات بھی جلوہ افروز ہوئیں، جن میں عائزہ خان، ثنا جاوید، صنم سعید، مومل شیخ، علی خان، ایریکا رابن، آمنہ الیاس، عدنان ملک، ٹاپو جاویری، امین جے اور ثانیہ مسکتیہ شامل تھے۔
پٹاخہ پِکچرز: پانچ سالوں کا کامیاب سفر
2022 میں اپنے آغاز سے لے کر اب تک، پٹاخہ پِکچرز نے ابھرتے ہوئے فلم سازوں کی معاونت کی ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں اس پلیٹ فارم نے چھہتر (76) ابھرتے ہوئے فلم سازوں کی نہ صرف مالی معاونت کی بلکہ انہیں فنی رہنمائی بھی فراہم کی۔ اس کے نتیجے میں ان فلم سازوں کے کام کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔ ان کی بنائی ہوئی فلموں نے بائیس (22) سے زائد ایوارڈز جیتے اور دنیا بھر کے سو (100) سے زائد فلمی میلوں میں دکھائی گئیں۔ یہ اعداد و شمار خود بتاتے ہیں کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، بس اسے صحیح موقع ملنے کی دیر ہے۔
شرمین عبید چنائے نے اپنی تقریر میں پٹاخہ پِکچرز کی اس کامیابی کو ایک بنیادی یقین کی تصدیق قرار دیا: "صلاحیت ہر جگہ ہے، مگر موقع ہر ایک کو نہیں ملتا۔" انہوں نے برٹش کونسل پاکستان اور سکاٹش ڈاکومینٹری انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ شراکت داری کو سراہا، جس نے خواتین فلم سازوں کو فنڈنگ، رہنمائی اور تخلیقی آزادی فراہم کی۔ ان کا وژن ہے کہ پٹاخہ پِکچرز مستقبل میں بھی کہانی سنانے والوں کی اگلی نسل کے لیے ایک مستقل جگہ بنے، جہاں وہ سیکھ سکیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کر سکیں۔
'کلیم دی فریم' اور نئی آوازیں
اس سالگرہ کی تقریب میں 'کلیم دی فریم' پروگرام کے 2026 کے ایڈیشن کے لیے منتخب ہونے والی آٹھ خواتین فلم سازوں کا بھی تعارف کرایا گیا۔ یہ باصلاحیت خواتین پنجاب، سندھ اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھتی ہیں اور انہیں چار تخلیقی ٹیموں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان کے پراجیکٹس میں دلچسپ اور منفرد موضوعات شامل ہیں، جیسے:
- مردوں کے غلبے والے کھیل ٹینٹ پیگنگ (tent pegging) میں رکاوٹیں توڑتی ایک خاتون۔
- دیہی سندھ میں موسمیاتی تبدیلی اور بچوں کی شادی کے درمیان تعلق۔
- چولستان صحرا کی فنی روایات۔
- شمشال وادی میں نسل در نسل خواتین کی صحت کی دیکھ بھال کی خدمات۔
یہ پانچ ماہ کا پروگرام برٹش کونسل اور سکاٹش ڈاکومینٹری انسٹی ٹیوٹ کے اشتراک سے چلایا جاتا ہے۔ فلم سازوں کو نہ صرف فلم بنانے کے لیے فنڈز ملتے ہیں، بلکہ انہیں ہفتہ وار آن لائن رہنمائی بھی فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، کراچی میں ایک بھرپور 'ایڈٹ ویک' (Edit Week) بھی ہوتا ہے۔ پروگرام میں کہانی نویسی، کیمرہ تکنیک، ایڈیٹنگ اور دستاویزی فلم سازی کے دیگر پہلوؤں پر ورکشاپس بھی شامل ہیں۔ اس پروگرام میں سکاٹش ڈاکومینٹری انسٹی ٹیوٹ کے بانی نوعی مینڈل پانچویں بار بطور بین الاقوامی مینٹور شامل ہوئے، جبکہ دیگر مینٹورز میں فلم ساز اور سینماٹوگرافر نادر صدیقی، نان فکشن اور اینیمیشن پروڈیوسر ہما مراد شاہ، ایوارڈ یافتہ صحافی اور دستاویزی فلم ساز مریم عشانی تھامپسن، ایڈٹ مینٹور حسین قیصر اور ساؤنڈ انجینئر و پروڈیوسر سمیر خان بھی شامل تھے۔
فلمی دنیا میں خواتین کی جگہ
برٹش کونسل پاکستان کی آرٹس ڈائریکٹر لیلیٰ جمیل نے اس پروگرام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان فلم سازوں کے لیے مواقع پیدا کرتا ہے جن کی کہانیوں کو شاید عام طور پر پلیٹ فارم نہ ملے۔ انہوں نے کہا، "پاکستان میں ٹیلنٹ یا کہانیوں کی کمی نہیں، اصل بات یہ ہے کہ مزید آوازوں کو سننے کے لیے جگہ، مدد اور مواقع پیدا کیے جائیں۔" ان کا کہنا تھا کہ یہ شراکت داری فلم کے ذریعے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تعلقات کو بھی مزید مضبوط کر رہی ہے۔
پٹاخہ پِکچرز نے پانچ سالوں میں محض ایک مینٹور شپ پراجیکٹ سے بڑھ کر کہانی سنانے والوں کی ایک بڑی کمیونٹی کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اس کا مقصد خواتین فلم سازوں کی حمایت کرنا ہے، جو پاکستان کے فلمی شعبے میں فنڈنگ، پیشہ ورانہ رہنمائی اور آزاد دستاویزی فلم پراجیکٹس تیار کرنے میں اب بھی مشکلات کا سامنا کرتی ہیں۔ پٹاخہ پِکچرز کا ہدف ایک مستقل جگہ قائم کرنا ہے جہاں ابھرتے ہوئے فلم ساز اپنی صلاحیتیں نکھار سکیں۔
تو کیا آپ بھی تیار ہیں ان نئی پٹاخہ خواتین فلم سازوں کی کہانیوں کے لیے؟
