MAD Pakistanموسیقی، مشہور شخصیات اور پاپ کلچر
تفریح

اُروہ حسین کو 'نیٹ فلکس کوالٹی' لیم لگتی ہے – کہتی ہیں ہم اس سے بہتر ہیں!

اداکارہ اُروہ حسین نے ایک انٹرویو میں پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں 'نیٹ فلکس کوالٹی' کے پیچھے بھاگنے کے رجحان پر کھل کر بات کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ موازنہ سراسر 'لیم' ہے اور ہم اس سے کہیں بہتر کام کر رہے ہیں۔

اُروہ نے سوال اٹھایا کہ کیوں ہمارے اپنے پراجیکٹس کو عالمی سٹریمنگ پلیٹ فارم سے تولا جاتا ہے جب کہ ان کی اپنی ایک الگ تخلیقی شناخت اور کہانی سنانے کا انداز ہے۔ ان کے بقول، لوکل پروڈکشنز کی اپنی خوبیاں ہیں اور انہیں کسی عالمی پلیٹ فارم سے تصدیق کی ضرورت نہیں۔

اُروہ نے یہاں تک کہہ دیا کہ نیٹ فلکس اب کوئی سونے کا معیار نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ تو بس ایک ایپ یا پورٹل ہے جو آیا اور کچھ سال چلا، مجھے نہیں لگتا انہیں اب پتہ ہے وہ کیا کر رہے ہیں۔" سیدھی بات ہے، ہم کیوں کسی اور کے پیمانے پر اپنی ویلیو دیکھیں؟

اُروہ کے مطابق، پاکستانی پراجیکٹس کی اصل طاقت ان کی کہانیوں اور انہیں بنانے کے تخلیقی عمل میں ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ کمرشل اپیل اور بصری خوبصورتی صرف کہانی کو مکمل کرتی ہے، اسے چھپاتی نہیں۔ ان کے مطابق کہانیاں اور کام کا طریقہ ہی ان کے پراجیکٹس کی روح ہیں، اور کمرشل پہلو بعد میں آتا ہے۔ آخر میں، اُروہ نے ایک بار پھر کہانی کو سب سے اہم عنصر قرار دیا۔

واضح رہے کہ اُروہ حسین نے اپنے کیریئر کا آغاز ویڈیو جاکی کے طور پر کیا تھا اور پھر پاکستانی ٹیلی ویژن اور سنیما میں بطور اداکارہ اپنی پہچان بنائی۔ ان کے مشہور ڈراموں میں 'اڈاری' اور 'مشک' شامل ہیں، جبکہ فلموں میں 'پنجاب نہیں جاؤں گی' اور 'نا معلوم افراد' جیسی ہٹ فلمیں ہیں۔ وہ فلم پروڈکشن میں بھی قدم رکھ چکی ہیں اور 2022 میں ریلیز ہونے والی رومانٹک کامیڈی 'ٹِچ بٹن' کی پروڈیوسر تھیں۔

تو کیا کہتے ہو، اُروہ کی بات میں دم ہے یا نہیں؟

عوامی ذرائع، وکی پیڈیا، یوٹیوب، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک کی معلومات کے ساتھ۔