نور بخاری کے نئے لپ فِلرز پر سوشل میڈیا میں ہنگامہ، مداحوں کا سخت ردِعمل

پاکستان کی سابق فلمی اداکارہ اور ماڈل نور بخاری کے نئے لپ فِلرز نے آتے ہی سوشل میڈیا پر ہنگامہ مچا دیا ہے۔ جیسے ہی ان کی تازہ ترین ویڈیو سامنے آئی، مداحوں نے فوراً ان کے بدلے ہوئے انداز پر بات کرنا شروع کر دی۔
نور بخاری جنہوں نے محض چودہ سال کی عمر میں شوبز میں قدم رکھا اور 'مجھے چاند چاہیے' اور 'گھر کب آؤ گے' جیسی فلموں سے شہرت پائی، بعد میں شوبز کی چکاچوند سے ہٹ کر اپنی روحانیت کے سفر پر توجہ دینے لگیں۔ آج کل وہ اپنے یوٹیوب چینل پر اسلامی مواد پر مبنی وی لاگز شیئر کرتی ہیں۔
اپنی حالیہ ویڈیو میں، نور بخاری ایک چمک دار دوپٹے میں حجابی انداز میں نظر آئیں اور انہوں نے میک اپ بھی نہیں کیا ہوا تھا، لیکن ان کے نمایاں طور پر بڑھے ہوئے ہونٹوں نے سب کی توجہ کھینچ لی۔ صارفین نے فوراً کہا کہ لپ فِلرز غیر قدرتی لگ رہے ہیں اور ان کی قدرتی خوبصورتی کو متاثر کر رہے ہیں۔ ایک صارف نے تو یہاں تک لکھ ڈالا کہ "یہ اپنے ہونٹوں کے ساتھ کیا کر دیا ہے آپ نے، قدرت کی خوبصورت تخلیق کو خراب کر رہی ہیں،" جو عام رائے کی عکاسی کرتا ہے۔
کچھ دیگر تبصروں میں یہ بھی کہا گیا کہ وزن کم کرنے اور کاسمیٹک سرجریوں کی وجہ سے ان کے چہرے میں بہت زیادہ تبدیلی آئی ہے، اور بعض نے انہیں لپ فِلرز ہٹانے کا مشورہ دیا۔ ان ردعمل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مداح نور بخاری کو زیادہ قدرتی انداز میں دیکھنا چاہتے ہیں، خاص طور پر ان کے اسلامی وی بلاگر کے موجودہ تاثر کے پیش نظر۔
نور بخاری کا فلمی دنیا سے مذہبی وی بلاگر بننے کا سفر پاکستان میں ایک بڑی تبدیلی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اب جب لوگ انہیں روحانیت اپناتے دیکھ رہے ہیں، تو ان سے اس امیج کو برقرار رکھنے کی توقعات بھی بہت زیادہ ہیں۔ لپ فِلرز جیسے کاسمیٹک اضافے، جنہیں اکثر مغربی خوبصورتی کے رجحانات سے جوڑا جاتا ہے، ان کے موجودہ روایتی اور باوقار تشخص سے متصادم نظر آتے ہیں۔
ان کا کیس پاکستان میں خوبصورتی کے معیار، ذاتی اظہار اور مذہبی پابندیوں کے بارے میں وسیع تر سماجی بحثوں کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ عوامی شخصیات کو اپنے ذاتی انتخاب اور عوامی تاثرات کے درمیان توازن قائم کرنے میں کن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
آخر پبلک فگرز کو اپنی مرضی سے سانس لینے کی بھی اجازت نہیں؟
