حسن رحیم کا گانا 'بے وجہ' دو گریمی کیٹیگریز کے لیے زیرِ غور

ان کا گانا 'بے وجہ' دو گریمی ایوارڈز کی کیٹیگریز میں غور کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ یہ اعلان 'Hasan Raheem Global' کے انسٹاگرام پیج پر ایک پوسٹ کے ذریعے کیا گیا جس میں لکھا تھا، “BEWAJAH | FOR YOUR GRAMMY®️ CONSIDERATION”۔ یار، سوچو پاکستانی موسیقی کا عالمی سطح پر کتنا بڑا نام ہو رہا ہے!
اس سبمِشن کا مطلب یہ نہیں کہ نامینیشن پکی ہے، مگر یہ 'بے وجہ' کو دنیا کے سب سے معتبر میوزک ایوارڈز میں سے ایک، گریمی، کی دوڑ میں شامل کر دیتا ہے۔ یہ صرف گانے کی وجہ سے ہی نہیں بلکہ گلگت بلتستان کے ثقافتی ورثے کی نمائندگی کے لحاظ سے بھی قابلِ ذکر ہے۔ ایک کیٹیگری 'بیسٹ گلوبل میوزک پرفارمنس' ہے جو دنیا بھر کی موسیقی کو پہچان دیتی ہے، اور دوسری 'بیسٹ میوزک ویڈیو' ہے، جو میوزک کے ساتھ وِژول کو دیکھتی ہے۔ 'بے وجہ' دونوں کا بہترین امتزاج ہے۔
مارچ 2026 میں ریلیز ہونے والا یہ گانا، جس میں پروڈیوسر عمیر بھی شامل ہیں، اُردو کے ساتھ ساتھ شِنا زبان کا بھی استعمال کرتا ہے، جو گلگت بلتستان میں بولی جاتی ہے۔ اس میں گلگت بلتستان کی موسیقی کی پہچان ہے، جس میں جذبات سے بھرپور کہانی اور حسن رحیم کی ثقافتی جڑوں سے جڑی آوازیں شامل ہیں۔ کیا زبردست بات ہے کہ ہماری ثقافت کو عالمی پلیٹ فارم پر اس طرح پیش کیا جا رہا ہے!
میوزک ویڈیو بھی اس گانے کی اپیل کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ پاکستان کے گلگت میں، پہاڑوں کے شاندار پس منظر میں فلمائی گئی ہے۔ ویڈیو میں روایتی لباس، گلگتی رقص اور ایک فری اسٹائل پولو میچ بھی شامل ہے۔ حسن رحیم خود سفید لباس میں زیورات پہنے ہوئے، سیاہ لباس میں ملبوس کھلاڑیوں اور تماشائیوں کے درمیان کھڑے ہیں، جبکہ ارد گرد کے پہاڑ ویڈیو کی سنیماٹوگرافی کو چار چاند لگا رہے ہیں۔ یہ وِژول دیکھ کر دل خوش ہو جاتا ہے، سچ میں!
حسن رحیم، جو ایک پاکستانی سنگر، نغمہ نگار اور ریپر ہیں، گلگت بلتستان کی روایات کو ہمیشہ اپنی موسیقی میں نمایاں کرتے رہے ہیں۔ 'عیسے کیسے' اور 'جونا' جیسے ٹریکس سے مشہور ہونے والے حسن رحیم نے 'کوک اسٹوڈیو پاکستان' میں بھی پرفارم کیا ہے۔ ان کی یہ کوشش گلگت بلتستان کے شاندار کلچر کو دنیا کے ہر کونے تک پہنچانے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ دیکھنا ہے اب گریمی کی یہ دوڑ انہیں کہاں لے جاتی ہے!
