حریم فاروق نے ہانیہ عامر کو 'اڑان' بھرنے میں کیسے مدد کی؟

اداکارہ اور پروڈیوسر حریم فاروق نے ایک بار پھر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ 2016 کی ہٹ فلم 'جانان' کے ذریعے ہانیہ عامر کو بڑے پردے پر متعارف کروانے میں انہوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ حریم کا کہنا ہے کہ ہانیہ عامر کی کامیابی تو طے تھی، انہوں نے بس اس کی صلاحیت کو ذرا جلدی پہچان لیا۔
CONTEXT
پاکستان کی معروف اداکارہ، پروڈیوسر اور گلوکارہ حریم فاروق نے تھیٹر سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور 'سیاہ' جیسی فلموں سے سکرین پر اپنی پہچان بنائی۔ وہیں، ہانیہ عامر اردو ٹیلی ویژن اور فلموں میں کام کرنے والی اداکارہ ہیں۔ 'جانان' وہ فلم تھی جس نے ان دو باصلاحیت خواتین کو ایک پروڈیوسر اور ایک ابھرتے ستارے کے طور پر جوڑا۔
ہانیہ عامر کا آسمان چھونے کا سفر
حریم فاروق نے حال ہی میں اپنی آنے والی فلم 'مینگو جٹ' (جس میں ان کے شریک اداکار فیصل قریشی ہیں) کے حوالے سے ایک انٹرویو میں ہانیہ کو انڈسٹری میں ابتدائی موقع دینے کے فیصلے پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا، “ہاں، میں نے اسے لانچ کیا تھا،” اور مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا، “یوں سمجھ لیں وہ بنی ہی تھی اڑنے کے لیے۔ میں نے بس اسے تھوڑا جلدی پکڑ لیا۔ بس ایسی ہی بات تھی۔” حریم کے مطابق، ہانیہ کی صلاحیتیں تو آسمان چھونے کے لیے بے تاب تھیں، اور انہوں نے بس اسے صحیح وقت پر پہچان لیا۔
2016 میں ریلیز ہونے والی 'جانان' حریم فاروق کی بطور فلم پروڈیوسر پہلی فلم تھی۔ یہ رومانٹک کامیڈی نہ صرف حریم کے لیے پروڈکشن کے میدان میں ایک نئی ابتدا تھی بلکہ اس نے پاکستانی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کو کئی ایسے چہرے دیے جو بعد میں پاکستانی تفریحی صنعت میں اپنی جگہ بنا گئے۔ ہانیہ عامر کے علاوہ، بلال اشرف اور علی رحمن خان جیسے نام بھی اسی فلم سے سامنے آئے۔ یہ ایک ایسی فلم تھی جس نے ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کو ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کیا۔ ہانیہ عامر، جو اس سے قبل سوشل میڈیا ویڈیوز کے ذریعے لوگوں کی توجہ حاصل کر چکی تھیں، نے 'جانان' کے بعد ٹیلی ویژن اور فلم دونوں میں ایک کامیاب کیریئر بنایا اور آج وہ پاکستان کی نمایاں نوجوان فنکاروں میں سے ایک ہیں۔
پروڈکشن کا جنون اور نئے ٹیلنٹ کی حمایت
حریم فاروق کے لیے فلم پروڈکشن صرف ایک نیا شعبہ نہیں، بلکہ یہ ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کے لیے جگہ بنانے کا ایک موقع ہے۔ انہوں نے مزے مزے میں یہ بھی بتایا کہ پردے کے پیچھے کی ان کی محنت کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، حالانکہ انہیں تھیٹر پروڈکشن کا کافی تجربہ ہے۔
حریم کا کہنا ہے کہ وہ پروڈکشن کی طرف اس لیے کھنچی چلی آتی ہیں کیونکہ یہ انہیں اپنی اداکاری سے ہٹ کر بھی پاکستانی سینما میں حصہ ڈالنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ان کا یہ انداز مقامی فلم سازی کو سپورٹ کرنے کے وسیع تر مقصد کی عکاسی کرتا ہے، جس میں ایسی کہانیوں کی حمایت کی جاتی ہے جو سامعین کو پسند آئیں اور نئے فنکاروں کے لیے دروازے کھلیں۔ 'جانان' میں حریم نے خود کو زیادہ تر پردے کے پیچھے ہی رکھا تاکہ ابھرتے ہوئے اداکاروں کو نمایاں ہونے کا موقع مل سکے۔
2024 میں دی ایکسپریس ٹریبیون کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بھی حریم نے ہانیہ عامر کے کیریئر میں اپنا کردار ادا کرنے پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔ ان کے لیے، پروڈکشن اس انڈسٹری کو واپس دینے کا ایک طریقہ ہے جس نے انہیں خود بھی کئی مواقع فراہم کیے۔
آخر میں، 'جانان' ہانیہ عامر کے لیے ایک شاندار سکرین کیریئر کی ابتدا تھی جو آنے والے سالوں میں اور بھی پروان چڑھا۔ اور حریم فاروق کے لیے، یہ بطور پروڈیوسر ایک متوازی سفر کا پہلا قدم تھا، جہاں دوسروں کے لیے مواقع پیدا کرنا ان کے وژن کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔ ایسی پروڈیوسر ہوں تو ہمارے انڈسٹری کا 'فیوچر' تو سیٹ ہے، کیا کہتے ہو؟
